کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال

 شاہد خان

مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر تقریباً جنگ جیسی صورت حال ہے۔
دو ہفتے پہلے انڈیا نے کشمیر میں مزید دس ہزار ٹروپس بھیجے ہیں۔
دو دن پہلے مزید پچیس ہزار ٹروپس منگوا لیے ہیں۔
یوں صرف دو ہفتوں میں کشمیر میں پینتیس ہزار اضافی فوج بھیجی گئی ہے۔
انڈیا نے ائر فورس کو الرٹ کیا ہے۔
انڈین نیوی کی نقل و حرکت سمندروں میں بڑھا دی گئی ہے۔
کشمیر میں لوکل پولیس سے انتظام لے کر انڈین آرمی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ہوٹلز، ریسٹورنٹس سمیت دیگر ایسی جگہوں پر انڈین فوج آکر بیٹھ گئی ہے۔
انڈین آرمی کو چار ماہ کا راشن جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کشمیر میں لوگوں نے خوراک سٹاک کرنی شروع کر دی ہے۔
اس وقت زیادہ تر کشمیری سڑکوں پر ہیں۔

دہلی سے یہ بھی ہدایت آئی ہے کہ جتنے بھی انڈین یا غیر ملکی سیاح یا انڈین یاتری کشمیر آئے ہیں وہ فوری طور پر کشمیر چھوڑ دیں۔

شائد کچھ بہت بڑا ہونے جا رہا ہے۔
انڈین یہ سب تب کرتا ہے جب اس کو پاکستان کے ساتھ جنگ کرنی ہوتی ہے۔
لیکن اگر جنگ نہیں ہورہی تو پھر دو چیزیں ہوسکتی ہیں۔

انڈین حکومت نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن دائر کی ہے کہ آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370 کو ختم کیا جائے۔
یہی دو آرٹیکلز کشمیر سٹیٹ کو ایک خصوصی حیثیت دیتے ہیں۔
ان دو آرٹیکلز کی وجہ سے کوئی انڈین کشمیر میں زمین نہیں خرید سکتا۔
اور انہی کی وجہ سے کشمیر کا اپنا الگ آئین اور جھنڈا وغیرہ ہے۔
کشمیر کے راجا نے انہی آرٹیکلز کی بنیاد پر کشمیر کا انڈیا کے ساتھ الحاق کیا تھا۔
ان آرٹیکلز کی وجہ سے کشمیری انڈیا کے نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے شہری کہلاتے ہیں۔

اگر ان آرٹیکلز کو ختم کر دیا گیا تو کشمیری انڈین کہلائنگے اور ان کی جداگانہ حیثیت ختم ہوجائیگی۔
اسرائیل کی طرز پر انڈیا کشمیر میں ہندؤوں کی آباد کاری مزید تیز کر دے گا۔
اور کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان کے درینہ مطالبے ” ریفرنڈم ” کو مانتے ہوئے کشمیر میں ریفرنڈم کرا لے گا۔
یوں کشمیر خود بخود انڈیا کے پاس چلا جائیگا۔ پاکستان بے بس ہوجائیگا۔

شائد سپریم کورٹ کا فیصلہ انڈین حکومت کے حق میں آنے والا ہے۔

اور دوسری ممکنہ وجہ
مقبوضہ کشمیر تین حصوں پر مشتمل ہے۔
جموں، کشمیر اور لداخ جن ڈی سی ہنڈل کرتے ہیں۔
ان میں سے جموں میں پچھلے پندرہ سال کے دوران ہندووں کی بہت بڑی تعداد کو آباد کیا گیا جس کے بعد جموں میں ہندؤوں کی اکثریت ہوگئی ہے۔
یہ سارا کچھ مولانا فضل الرحمن صاحب کے دور میں کیا گیا جب وہ کشمیر کمیٹی کے چیرمین تھے۔ ان کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے بارہا انفارم کیا لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
ہندو اکثریت کی وجہ سے وہاں بی جے پی آرام سے جیت جاتی ہے۔
سننے میں آرہا ہے کہ انڈیا جموں کو باقی کشمیر سے الگ کر کے الگ سٹیٹ کا درجہ دینے لگا ہے۔

یوں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کی صورت میں جموں میں الگ سے ریفرنڈم کرایا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے یہ باقی کشمیر سے کاٹ دیا جائیگا۔
جب کہ کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیرا ٹوری بنایا جا رہا ہے۔ جس سے لوکل سیاسی پارٹیاں نل ہوجائینگی ان کے پاس کوئی پاور نہیں رہے گی۔
مودی براہ راست یہاں پر حکومت کرے گا۔

اس وقت کشمری میں گورنر راج ہے جس کو دہلی سے براہ راست کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

کشمیر پر عمران خان کی جارحانہ سفارت کاری،
امریکہ کا تبدیل ہوتا سٹانس،
کشمیریوں کی بڑھتی مزاحمت،
اور افغانستان سے ممکنہ امریکہ انخلاء کی صورت میں کشمیر انڈیا کو اپنے ہاتھوں سے پھسلتا محسوس ہو رہا ہے جس کہ وجہ سے وہ یہ خطرناک اقدمات کرنے جا رہا ہے۔

ان کے نیتجے میں آنے والے دنوں میں کشمیر میں خوفناک خونریزی کے امکانات ہیں۔

لیکن اس ساری صورت حال پر پاکستانی میڈیا اور پاکستانی سفارت خانے کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔
میں حکومت اور میڈیا سے اپیل کرونگا کہ فوری طور پر اس معاملے کو اٹھائیں۔
ساتھ میں ایک اہم ٹپ بھی۔

یاد رکھیں۔

مذکورہ آرٹیکلز کی بنیاد پر ہی راجہ نے وہ الحاق کیا تھا جس کی وجہ سے انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
اگر یہ آرٹیکلز ختم ہوتے ہیں تو کشمیر کا انڈیا کے ساتھ الحاق بھی فوری طور پر ختم ہوجائیگا جس کو پاکستان اقوام متحدہ میں اٹھا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.