خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن اور بحیثت مسلمان ہماری ذمہ داریاں

سیدہ قدسیہ مشہدی

سب سے پہلی بات جو ہمیں واضح ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ مذہب نے کبھی بھی عورتوں کے حقوق سلب نہیں کیے،ہمیشہ معاشرے نے یاکسی جگہ کی تہذیب اور تمدن  عورتوں کے حقوق کو غصب کرنے کے ذمہ دار رہے ہیں۔ مذہب نے تو ہمیشہ عورتوں کو حقوق دیے ہیں اور اس معاملے میں اسلام تمام مذاہب میں سر فہرست ہے۔ آج کل فیمنیزم کا دور دورہ ہے اورمیں سمجھتی ہوں کہ اسلام سے زیادہ بڑا فیمنسٹ مذہب اور کوئی نہیں ہے۔ عورتوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کا ذمہ دار پدری سماجی روایہ ہے یعنی پٹری ارکل معاشرہ، جہاں مرد کو ہمیشہ عورت کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

بی بی خدیجہ سلام اللہ علیہا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جو کہ ایک خود مختار تاجر خاتون تھیں اور انہوں نے سرور کائنات ﷺ کو خود رشتہ بھیجا تھا۔کیا آج کل کے مسلم معاشرے میں کوئی مسلمان عورت یہ کام کر سکتی ہے؟ پہلی بات کے کسی کے گھر والے ہی اس کو اجازت نہیں دیں گے اور دوسری بات کہ اگر کوئی خاتون  ایسا کر بھی لیتی ہے تو یہ معاشرہ اس کو جینے نہیں دے گا۔ اس کو اپنے کردار کے اوپر باتیں سننے کو ملیں گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.