ٹرانسجینڈرز ایکٹ 2018 اور ہم جنس پرستی کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟
نیوز ڈیسک
ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 ایک گھناؤنا دھوکا ہے۔ پیدائشی برتھ ڈیفیکٹ کے شکار افراد ‘خنثیٰ’ یعنی ‘انٹرسیکس’ کہلاتے اور تحفظ کے اصل حقدار ہیں لیکن اُن کی آڑ لے کر ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے ۔اسلام کسی بھی خنثیٰ کو تیسری جنس نہیں کہتا بلکہ اُن کو مرد یا عورت قرار دیتا ہے اور مرد یا عورت والے تمام حقوق دیتا ہے۔
ٹرانسجینڈرز ایکٹ 2018 اور ہم جنس پرستی یعنی ایل جی بی ٹی کیو پلس کا آپس میں رشتہ کیا ہے؟ اس متنازعہ بل کے پس پردہ محرکات کیا ہیں؟ اس کے تانے بانے کہاں بُنے گئے اور کس کس نے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا؟ شیریں مزاری کی وزارت نے ٹرانسجینڈرز ایکٹ کے دفاع میں آخر عدالت میں جھوٹ کیوں بولا؟ منظوری سے قبل یہ بل اسلامی نظریاتی کونسل بھیجنے سے انکار کس نے کیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر غیرت مند باحمیت پاکستانی مسلمان کے ذھن میں ہیں۔
Discover more from Voice of East
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
Calling Iran Before It’s Too Late – Sheikh Imran N. Hosein
غزہ میں جاری نسل کشی کے تناظر میں فلسطین کے لیے دو ریاستی حل پر اسلامی نقطہ نظر كیا ہے؟
یزید کی وکالت اور اہل سنت کا عقیدہ
The Prophet Who Spoke Like Fire – The Story Of Prophet Shuaib
Leave a Reply