مرغدین، جہاں غربت اور خوف نہیں

خرم علی شفیق

پچھلی قسط پڑھ کر ایک قاری نے لکھا، ’’کاش ہمارے حکمراں بھی ہمارے پاکستان کو ویسا پاکستان بنائیں جیسا علامہ اقبال اور قائداعظم نے خواب دیکھا تھا۔‘‘ آمین، لیکن بھائی، اس خواب کو پورا کرنے میں آپ کا کردار بھی کسی بڑے سے بڑے حکمراں سے کم اہم نہیں ہے کیونکہ ’’ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارا!‘‘



اُمید ہے کہ آج کی قسط سے یہ بات اور زیادہ واضح ہو جائے گی۔ یہ قسط اقبال کی مثالی دنیا مرغدین کے بارے میں ہے۔ سب سے پہلے انہی کی کتاب ’’جاویدنامہ‘‘ کے ایک باب کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنت میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام برخیا تھا۔ ایک دن فرزمرز (جو شاید برخیا کی زبان میں ابلیس کا نام تھا)، اُس کے پاس آیا اور کہنے لگا،’’تم نہیں جانتے کہ ایک ایسی دنیا بھی ہے جس کے بارے میں خدا کو معلوم نہیں اس لیے وہ وہاں کے معاملات میں دخل نہیں دیتا۔ وہاں بڑی آزادی ہے۔ نہ وہاں کسی آسمانی کتاب کی پیروی کرنی پڑتی ہے، نہ کسی رسول کی اطاعت اور نہ ہی جبرئیل کی!‘‘ برخیا نے جواب دیا، ’’او دھوکے باز، میرے سامنے سے دُور ہو جا اور یہ فریب اپنی اُسی دنیا میں جا کر چلا!‘‘

چونکہ برخیا فرزمرز کی چال میں نہیں آیا اس لیے خدا نے انعام کے طور پر اُس کی اولادوں کو  ایک دوسری دنیا بخش دی۔

اس دنیا  کا نام مرغدین ہے۔ وہاں رہنے والے اسے ’’ملکِ خداداد‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ مریخ پر ہے جہاں ہر نیا دن کوئی نئی خوشی لے کر آتا  ہے اور لوگ وقت کے ساتھ بوڑھے نہیں ہوتے۔

مرغدین میں بلند عمارتیں ہیں۔ وہاں کے لوگ خوش شکل، نرم طبیعت اور میٹھی زبان والے ہیں۔ اُن  کا تخیل کسی سے کچھ سیکھے بغیر ہی سورج کی روشنی سے سونا چاندی  برآمد کر لیتا ہے۔ علم و ہنر کا مقصد صرف خدمت کرنا ہے۔ وہاں کام کو دولت سے نہیں تولا جاتا۔ کرنسی کا رواج نہیں ہے۔ طبیعتوں پر مشینوں کی حکومت نہیں ہے۔ کسان محنتی ہیں اور پوری فصل کے خود ہی مالک ہیں کیونکہ جاگیردار کا کوئی تصوّر نہیں ہے۔ جرم کا کوئی وجود نہیں اس لیے پولیس بھی نہیں ہے۔ کوئی جھوٹ نہیں لکھتا۔ نہ کوئی بیروزگار ہے اور نہ ہی بازار میں بھکاریوں کی دلخراش صدائیں سنائی دیتی ہیں۔

جب علامہ اقبال آسمانوں کے سفر پر نکلے تو اُن کے مرشد مولانا روم انہیں مریخ پر بھی لائے (مولانا روم کا انتقال اقبال سے کئی سو سال پہلے ہوا تھا لیکن دونوں کے درمیان ایک روحانی تعلق تھا)۔ مولانا روم نے انہیں بتایا کہ مریخ پر روح اور جسم ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ ہماری زمین پر جسم دکھائی دیتے ہیں اور روحیں اُن میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ لیکن مریخ پر روحیں دکھائی دیتی ہیں اور جسم اُن میں چھپے  ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہاں جب کسی کے مرنے کا وقت قریب آتا ہے تو وہ بڑے اطمینان کے ساتھ کچھ روز پہلے اس کا اعلان کر دیتا ہے۔ اگلے جہان کے تصوّر سے اُس میں ایک نیا ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔ مقررہ وقت پر وہ اپنے جسم کو روح میں سمیٹ لیتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے۔

مرغدین کے ایک سائینسدان نے بتایا،’’ہمارے یہاں نہ کوئی حاکم ہے اور نہ ہی محکوم! ‘‘ علامہ اقبال نے یہ سن کر کہا کہ امیر اور غریب، حاکم اور محکوم کا فرق تو خدا کی بنائی ہوئی تقدیر ہے، اسے بھلا تدبیر سے کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے! اُس نے جواب دیا:

’’اگر تم تقدیر کے ہاتھوں تکلیف اٹھا رہے ہو تو خدا سے ایک نئی تقدیر مانگ لینا بالکل جائز ہے۔ اس کے پاس تمہارے لئے تقدیروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تقدیر کے مطلب سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ہی اہلِ زمین اپنی خودی کھو چکے ہیں۔ تقدیر کا راز یہ ہے: اپنے آپ کو بدل دو اور تمہاری تقدیر تمہارے ساتھ ہی بدل جائے گی۔ اگر تم خاک ہو تو ہوا تمہیں بکھیر دے گی لیکن اگر تم چٹان بن جاؤ تو شیشہ بھی توڑ سکتے ہو۔  اگر تم شبنم کا قطرہ ہو تو تمہاری تقدیر نیچے گر جانا ہے، لیکن اگر تم سمندر ہو تو ہمیشہ رہنا تمہاری تقدیر ہے۔ تمہارے نزدیک ایمان کا مطلب دوسروں سے مطابقت اختیار کرنا ہے اور چونکہ تم خود اپنے آپ سے موافقت نہیں رکھتے اس لئے تمہارے افکارو خیالات تمہارے لئے قید خانہ بن گئے ہیں۔ اگر یہی ایمان ہے تو حیف ہے ایسے ایمان پر جو  تمہیں افیم کی طرح نشے میں مبتلا کردے!

’’جس طرح روح خدا کی طرف سے ہے، اُسی طرح یہ مادّی دنیا بھی اُسی کی ہے۔ اپنی ملکیت کو امانت سمجھو جو خدا کی طرف سے تمہارے سپرد کی گئی ہے۔ تب دیکھو گے کہ غربت اور ناانصافی ختم ہو جائیں گے۔ ہیرا تب تک ہیرا ہے جب تک تمہاری نظر میں قابلِ قدر ہے، ورنہ وہ محض پتھر کا ایک ٹکڑا ہے۔ تم دنیا کو جس انداز میں دیکھو گے دنیا ویسی ہو جائے گی۔ آسمان اور زمین بھی خود کو اس کے مطابق تبدیل کرلیں گے۔‘‘

علامہ اقبال نے دیکھا کہ مرغدین ایک مثالی دنیا ہونے کے باوجود ایک داخلی خطرے سے دوچار ہے۔ فرزمرز زمین سے ایک لڑکی کو سبق پڑھا کر یہاں لے آیا ہے۔ وہ شہر سے باہر کھڑی وعظ کر رہی ہے اور بہت سے لوگ اُس کے گرد جمع ہیں۔ اُس کے وعظ کا خلاصہ یہ ہے کہ محبت سے منہ موڑ لو۔ مولانا روم نے  اُسے نئے زمانے کا مذہب اور لادین تہذیب کا حاصل قرار دیتے ہوئے اقبال سے کہا، ’’تہذیب عشق سے پیدا ہوتی ہے۔ عشق کا ظاہر آگ اور باطن خدا کا نُور ہے۔ علم اور فن اُسی کی باطنی حرارت اور اُسی کے باہُنر جنون سے پیدا ہوتے ہیں۔ عشق کے آداب کے بغیر دین پختہ نہیں ہوتا۔ عشق والوں کی صحبت سے دین سیکھو!‘‘

جاویدنامہ


یہ کہانی علامہ اقبال نے اپنی فارسی مثنوی ’’جاویدنامہ‘‘ (1932)میں بیان کی ہے۔ میں نے یہاں کسی خاص اضافے کے بغیر اِس کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ میں نے’’جاویدنامہ‘‘ پر کافی کام کیا ہے لیکن فی الحال صرف دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔

پہلی بات یہ ہے کہ یکم جولائی 1917 کو جب علامہ اقبال اپنی ایک اور مثنوی ’’اسرار و رموز‘‘ کا دوسرا حصہ ختم کر رہے تھے، انہوں نے ایک  خط میں لکھا:

اب تیسرا حصہ ذہن میں آ رہا ہے اور مضامین دریا کی طرح اُمڈے آ رہے ہیں اور حیران ہو رہا ہوں کہ کس کس کو نوٹ کروں۔ اس حصہ کا مضمون ہو گا ’حیاتِ مستقبلۂ اسلامیہ‘ یعنی قرآن شریف سے مسلمانوں کی آئندہ تاریخ پر کیا روشنی پڑتی ہے اور جماعتِ اسلامیہ جس کی تاسیس دعوتِ ابراہیمی سے شروع ہوئی، کیا کیا واقعات و حوادث آیندہ صدیوں میں دیکھنے والی ہے اور بالآخر ان سب واقعات کا مقصود و غایت کیا ہے۔ میری سمجھ اور علم میں یہ تمام باتیں قرآن شریف میں موجود ہیں اور استدلال ایسا صاف و واضح ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تاویل سے کام لیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ اس نے قرآن شریف کا یہ مخفی علم مجھ کو عطا کیا ہے۔ میں نے پندرہ سال تک قرآن پڑھا ہے اور بعض آیات و سورتوں پر مہینوں بلکہ برسوں غور کیا ہے اور اتنے طویل عرصہ کے بعد مندرجہ بالا نتیجہ پر پہنچا ہوں۔ مگر مضمون بڑا نازک ہے اور اس کا لکھنا آسان نہیں۔ بہرحال میں نے یہ قصد کر لیا ہے کہ اس کو ایک دفعہ لکھ ڈالوں گا اور اس کی اشاعت میری زندگی کے بعد ہو جائے گی یا جب اس کا وقت آئے گا اشاعت ہو جائے گی۔

اِس خط میں اقبال نے جو مستقبل کی تاریخ لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، اُس کا ذکر وہ بعد میں بھی کرتے رہے۔ لیکن عام طور پر یہی سمجھا گیا کہ وہ یہ کتاب لکھے بغیر ہی دنیا سے چلے گئے۔ آج سے پندرہ سولہ برس پہلےجب میں اقبال کی ’’باتصویر سوانح‘‘ (انگریزی) پر کام کر رہا تھا، مجھے اُن کی بیاضوں میں ’’مثنوی حصہ سوئم‘‘ کے عنوان کے تحت لکھے ہوئے کچھ اشعار ملے جو ظاہر ہے کہ اسی کتاب کے تھے۔ اُس وقت میں کچھ اور سمجھا (اور باتصویر سوانح میں لکھ بھی دیا)۔ مزید تحقیق کے بعد یہ بات میرے سامنے آئی کہ اصل میں یہی کتاب مکمل ہو کر ’’جاویدنامہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی:

تھا ضبط بہت مشکل اِس سیلِ معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرارِ کتاب آخر

میں نے یہ بات پہلی دفعہ اپنی انگریزی کتاب ’’اقبال اور ہمارا عہد‘‘ میں لکھی۔ اب ’’اقبال کی منزل‘‘ میں مکمل ثبوت پیش کر رہا ہوں۔

مرغدین کہاں ہے؟


دوسری بات یہ ہے کہ جس زمانے میں علامہ اقبال ’’جاویدنامہ‘‘ لکھ رہے تھے، اُسی زمانے میں اُنہوں نے خطبۂ الٰہ آباد بھی لکھا۔ اُس میں انہوں نے کہا:

یورپ نے روح اور مادے کی علیحدگی کو غور و فکر کے بغیر قبول کر لیا۔ آج اُس کے بہترین مفکر اِس ابتدائی غلطی کو محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے سیاست دان بالواسطہ دنیا کو مجبور کر رہے ہیں کہ اسی اصول کو بے چون و چرا ایک عقیدے کے طور پر قبول کر لے۔

گویا مغربی سیاستدان دنیا سے وہی عقیدہ قبول کروانے کی کوشش کر رہے تھے جو کہانی میں فرزمرز، برخیا سے منوانے کی کوشش کرتا ہے اور برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے وہی پیشکش رکھی جا رہی تھی جو کہانی میں برخیا کے سامنے رکھی جاتی ہے:

ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت
مغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک
جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک

ہم جانتے ہیں کہ برخیا کی طرح برصغیر کے مسلمانوں نے بھی (جن میں موجودہ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے مسلمانوں کے اجداد شامل تھے) اس پیشکش کر مسترد کر دیا جب 1945-1946 کے انتخاب میں انہوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دئیے، جس کی تجویز علامہ اقبال نے خطبۂ الٰہ آباد میں پیش کی تھی۔ اس لیے کم سے کم اقبال کے نقطۂ نگاہ سے مسلمانوں نے وہی کیا جو کہانی میں برخیا نے کیا تھا۔ اپریل 1946 کی قرارداد (جسے قائداعظم نے مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ قرار دیا) بالکل ویسی ہے جیسی مرغدین کی کہانی میں برخیا کا جواب ہے۔

اِس طرح برخیا کی کہانی حقیقت بن گئی۔

قائداعظم محمد علی جناح ہمارے برخیا ہیں۔ لیکن وہ ایک تاریخی عمل کا حصہ تھے اِس  لیے برخیا ایک اجتماعی وجود بھی ہے۔ سر سید احمد خاں سے لے کر سردار عبدالرب نشتر تک بہت سے رہنما اور خاص طور پر وہ سارے عوام جنہوں نے قیامِ پاکستان کی حمایت کی، برخیا ہیں اور جناح اُن سب کی علامت ہیں۔

برخیا  کی جس بات سے خوش ہو کر خدا نے اُس کی اولاد کو مرغدین عطا کیا تھا، ہمارے اجداد نے بھی بالکل وہی کیا اور خدا نے ہمیں پاکستان دیا۔ اس لیے منطقی طور پر پاکستان مرغدین ثابت ہوتا ہے (’’جاویدنامہ‘‘ میں مرغدین کے لیے ’’ملکِ خداداد‘‘ کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں اور ہم بھی پاکستان کو ’’مملکتِ خداداد‘‘ کہتے ہیں)۔

ہم برخیا کی اولاد ہیں۔

نیا انسان


آپ نے مرغدین کے مناظر تفصیل کے ساتھ دیکھے ہیں۔ ان کا خلاصہ یہی ہے کہ وہاں غربت اور خوف سے مکمل آزادی ہے۔

اگر ہم ایسا  معاشرہ چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے شہدأ اپنے لہو سے اس کی قیمت ادا کر گئے ہیں۔ پاکستان مرغدین ہے اس لیے ہمیں پاکستان کو  بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اپنے آپ میں مرغدین والوں کی خصوصیات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں وہ خصوصیات ہوں گی تو معاشرے میں خودبخود وہی صورت حال نظر آئے گی جو مرغدین میں بتائی گئی ہے۔ جیسا کہ مریخی سائینسدان نے کہا، ’’تم دنیا کو جس انداز میں دیکھو گے دنیا ویسی ہوجائے گی۔ آسمان اور زمین بھی خود کو اس کے مطابق تبدیل کرلیں گے۔‘‘

یہ درست ہے کہ مرغدین کے رہنے والوں کی بعض خصوصیات مافوق الفطرت معلوم ہوتی ہیں، مثلاً وہ بوڑھے نہیں ہوتے، اُن کی رُوحیں دکھائی دیتی ہیں اور جب کسی کے مرنے کا وقت آتا ہے تو وہ بڑے اطمینان کے ساتھ کچھ روز پہلے اعلان کر دیتا ہے۔ لیکن یہ سب استعارے ہیں جن کی وضاحت علامہ اقبال پہلے ہی پیش کر چکے تھے۔ تفصیل میری آیندہ تصنیف’’اقبال کا راستہ‘‘ میں ملے گی جو کچھ مہینے بعد شائع ہو رہی ہے، کیونکہ وہ 1907 سے 1926 کے زمانے کے بارے میں ہے جب اقبال اپنے نظامِ فکر کے بنیادی اصول پیش کر رہے تھے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ ان کے یہاں مرغدین اور برخیا کا تصوّر شروع ہی سے موجود تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اسے ترقی دیتے گئے یہاں تک کہ 1923 میں اعلان کیا، ’’اب تہذیب و تمدن کی خاکستر سے فطرت زندگی کی گہرائیوں میں ایک نیا آدم اور اُس کے رہنے کے لیے ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے۔‘‘

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان وہی نئی دنیا ہے اور ہم وہ نئے انسان ہیں۔

یہ دونوں باتیں ہمارے ایک قومی نغمے میں بھی بہت کُھل کر کہی گئی ہیں۔ جس طرح مرغدین کے سائینسدان نے علامہ اقبال سے کہا کہ خدا نے ہمارے جدِ امجد کو یہ دنیا انعام میں دی تھی، اُسی طرح اس نغمے میں کہا گیا ہے، ’’اِتنے بڑے جیون ساگر میں تُو نے پاکستان دیا، ہو اللہ! ہو اللہ!‘‘ اور:

اِک دن ساری دنیا کہہ دے، تُو نے اِس دھرتی کے رَستے
اِک نیا انسان دیا، تُو نے پاکستان دیا!



آخری بات


ہم نے دیکھا ہے کہ مرغدین ایک مثالی دنیا ہونے کے باوجود داخلی خطرے کا شکار ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی تصوّرِ حیات جو محبت کی بنیاد پر قائم نہ ہو، مرغدین کے لیے خطرناک ہے۔  اب یہ دیکھنا ہمارا کام ہے کہ کیا مذہب، سیاست، تعلیم و تدریس اور دوسرے شعبوں میں ہمارے رویے مولانا روم کی اُس نصیحت کے مطابق ہیں جو اُنہوں نے مرغدین کی کہانی کے آخر میں کی ہے کہ ’’تہذیب عشق سے پیدا ہوتی ہے۔ عشق کا ظاہر آگ اور باطن خدا کا نُور ہے۔ علم اور فن اُسی کی باطنی حرارت اور اُسی کے باہُنر جنون سے پیدا ہوتے ہیں۔ عشق کے آداب کے بغیر دین پختہ نہیں ہوتا۔ عشق والوں کی صحبت سے دین سیکھو!‘‘

آئیے، ایک فلم دیکھتے ہیں جو میں نے 2006 میں لکھی تھی۔ اسے اقبال اکادمی پاکستان نے پروڈیوس کیا اور فیصل رحمٰن نے ڈائرکٹ کیا۔ اس فلم میں علامہ کی زندگی کی جھلکیاں بھی ہیں اور ہمارے زمانے کے کچھ مسائل بھی لیکن اس کا مرکزی خیال پاکستان اور مرغدین کا تعلق ہے۔



(جاری ہے)


چوتھی قسط، ’’قرطبہ‘‘ میں گول میز کانفرنسوں میں علامہ اقبال کے کردار اور اس سلسلے میں اُن کے سفر کے بارے میں بعض بالکل نئی تفصیلات پہلی دفعہ سامنے آ رہی ہیں اور اُن  کی عظیم الشان نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کا پس منظر بھی – عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفےٰؐ! اگلی قسط کو ملاحظہ کیجیے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.