پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے باہر کیوں نہ نکل سکا؟

فیٹف گرے لسٹ: پاکستان کو فروری تک پھر لٹکا دیا گیا ہے۔جبکہ انڈیا کے 41 بنکوں کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تصدیق امریکن ذرایع نے کی ہے۔یہ بے انصافی ہماری کمزوری کی وجہ سے ہے

طارق اسماعیل ساگر


 

One comment

  1. بڑے ملکوں نے چھوٹے یا کمزور ملکوں کو دبانے کے لئے ایک گروہ بنایا ہوا ہے، فائیننشل ایکشن ٹاسک فورس کے نام کا یہ گروہ اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ مَنی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لئے فنڈنگ پر نظر رکھ سکے۔
    دنیا بھر میں ہو رہی اس طرح کی فنڈنگ اور پیسے کی ناجائز ترسیل یا تو یہ بڑے ملک خود کرتے ہیں یا یہ ان کے ملکوں کے توسط سے کی جاتی ہے۔ کون انکار کر سکتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشتگرد امریکہ ہے اور جہاں کہیں دنیا میں بد امنی، بے چینی، جنگ کا خطرہ یا کوئی سرحدی تنازعہ ہے اس میں براہِ راست یا بالواسطہ امریکہ موجود ہوتا ہے۔ یہی حال اس کے حواریوں کا ہے، مغربی یورپ کے تمام ملک، اسرائیل اور بھارت اس گھناؤنے پروگرام میں شریک ہیں اور بلاشبہ یہی انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
    دنیا بھر کے چھوٹے ملکوں میں سے بد عنوانی سے اکٹھی کی ہوئی دولت کو لے کر بھاگنے والے انہی ملکوں میں جا کر پناہ لیتے ہیں اور یہ انہیں نہ صرف پناہ دیتے ہیں بلکہ اگر کوئی متعلقہ حکومت ان کی حوالگی کا مطالبہ کرے تو اس سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ گویا دیشتگردی کے ساتھ ساتھ معاشی بد عنوانی بھی ان کی رضا اور اعانت سے ہوتی ہے۔
    مَنی لانڈرنگ کو آسان بنانے کے لئے ورچوئل ، ڈیجیٹل اور کرپٹو کرنسی جیسے طریقے بھی انہی کے ایجاد کردہ ہیں جن کی موجودگی میں اب ٹرانسفر آف فنڈز کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ ہر لمحہ یہ عمل جاری و ساری رہتا ہے اور اس کی مانیٹرنگ پر کوئی تشویش کا اظہار تک نہیں کرتا۔
    تو یہ FATF کا ناٹک کس لئے؟ پاکستانیوں کے لئے یہ ہوا کس کا کھڑا کیا ہوا ہے اور پاکستانی اسے اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں؟ اس ادارے کے پاس کوئی ایسی اتھارٹی نہیں ہے کہ یہ کسی ملک میں جا کر خود تفتیش کر سکے تو یہ کسی ملک پر الزام کیسے لگا سکتا ہے؟ یہ ادارہ اس کے لئے مختلف حکومتی پالسیز، میڈیا کی کہانیوں اور مختلف ڈپلومیٹس کے بیانات کو لے کر یہ “قیاس” کرتا ہے اور کسی بھی ملک ، قوم یا فرد کو موردِ الزام ٹھہرا کر اسے گرے یا بلیک لسٹ میں ڈال دیتا ہے۔
    یہ لسٹ بدلتی رہتی ہے، آج کل ایران اور شمالی کوریا بلیک لسٹ ہیں اور پاکستان گرے لسٹ میں ہے۔ ویسے تو بلیک لسٹ میں ڈال کر انہوں نے ایران یا شمالی کوریا کا کیا اکھاڑ لیا؟ مگر پاکستان اور اس جیسے ملکوں کو سوچنا ہو گا کہ انہوں نے کیوں اپنی قوم کو ایسے ڈراموں کے سامنے سر جھکانے کے لئے چھوڑا ہوا ہے۔ قومی غیرت کا تقاضا ہے کہ یہ ادارہ یا تو امریکہ، انگلینڈ، فرانس، اسرائیل اور بھارت کو بلیک لسٹ میں ڈالے نہیں تو پاکستان اس پر لعنت بھیج کر اس سے الگ ہو جائے۔
    ہمیں دوسرے ملکوں سے غرض نہیں ہے، جب کلبھوشن یادیو ہماری قید میں ہے اور اسے بلوچستان میں دہشتگردی کی فنڈنگ ہی میں رنگے ہاتھوں دبوچا گیا تھا تو پاکستان ، بھارت کو بلیک لسٹ کیوں نہیں کروا سکتا؟
    دوسری جانب پاکستان نے جو دنیا بھر کی بد نامی لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے اداروں کی وجہ سے لے رکھی ہے، یہ ادارے کرتے کیا ہیں؟ بھارت صبح سے شام تک پاکستان کا نام لے لے گالیاں دیتا ہے، اسلام اور مسلمانوں کی توہین کرتا ہے، پاکستان پر اپنی برتری کے جھوٹے فسانے سنا سنا کر پاکستانیوں کا تمسخر اڑاتا ہے، جواب میں ہماری حکومت خاموش، میڈیا گنگ بلکہ بھارت کا طرفدار، سیاسی پارٹیاں بھارت کی حلیف اور یہ نام نہاد جہادی تنظیمیں ناکارہ!
    بھارت کو اس کے پروپیگنڈے سے روکنے کا بجز اس کے کوئی حل نہیں ہے کہ انہیں اس طعن و تشنیع کی سزا دی جائے۔ بھارت کے پورے “گودی میڈیا” کی ایک ہٹ لسٹ تیار کی جائے اور جہادی تنظیمیں ان حرامزادوں کو ایک کے بعد ایک اڑانے کا کام شروع کریں۔ پھر دیکھیں ٹھنڈ پڑتی ہے یا نہیں، یہی بھارت گھٹنوں کے بل ہو کر ہم سے مذاکرات کی بھیک مانگے گا۔
    طارق فتح جیسے پاکستانی نژاد جو بھارتی پلیٹ فارم پر بیٹھ کر حجرِ اسود کو vagina سے تشبیہ دینے کی بے باکی دکھاتے ہیں، اس ایک حرامزادے کو بر وقت سزا دی جاتی تو دوبارہ کسی کو بھارتی میڈیا پر بیٹھنے کی ہمت نہ ہوتی۔ میجر گورو آریا جو کھلم کھلا پاکستان میں سول وار بھڑکانے کی میڈیا پر بیٹھ کر پلاننگ کرتا ہے، پاکستان میں دیشتگردوں کی فنڈنگ کی علی اعلان پیشکشیں کرتا ہے، اس کی سزا بھی اس سے کم نہیں ہے کہ اسے الٹی میٹم دے کر اڑایا جائے۔
    چند دن بعد پھر FATF کا اجلاس ہونے والا ہے، اگر فیصلہ پاکستان کے حق میں نہ ہو تو پاکستانی وفد پر فرض ہے کہ اسے بھارتی کرتوتوں سے آگاہ کرکے اس ادارے کی جانبداری اور نا انصافی پر لعنت بھیج کر خود کو الگ کر لے اور اگر اس ضمن میں یو این او پر بھی لعنت بھیجنی پڑے تو پاکستان کو یہ کر گذرنا چاہیئے۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.